کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: الغلول کا بیان - مسلمانوں کے نقصان پر مبنی غنائم سے فائدہ اٹھانے پر سخت ممانعت
حدیث نمبر: 4850
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمٍ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّبَائِيِّ ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ عَامَ خَيْبَرَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَسْقِيَنَّ مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَأْخُذَنَّ دَابَّةً مِنَ الْمَغَانِمِ فَيَرْكَبَهَا حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِي الْمَغَانِمِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنَ الْمَغَانِمِ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِي الْمَغَانِمِ " .
سیدنا رویفع ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں۔ غزوہ خیبر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پانی کے ذریعے کسی دوسرے کی اولاد کو سیراب نہ کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مال غنیمت میں سے کوئی جانور حاصل کر کے خود اس پر سوار نہ ہو جائے یہاں تک کہ جب وہ جانور کمزور ہو جائے تو اسے پھر مال غنیمت میں جمع کرا دے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مال غنیمت میں سے کوئی کپڑا لے کر پہن نہ لے کہ جب وہ پرانا ہو جائے تو اسے پھر مال غنیمت میں جمع کرا دے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4850
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (5/ 141)، «صحيح أبي داود» (2426). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4830»