کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: الغلول کا بیان - ممانعتِ غلول کا بیان کہ خیانت کرنے والا قیامت کے دن اپنی خیانت کی ہوئی چیز اپنی گردن پر لائے گا
حدیث نمبر: 4848
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَ مِنْ أَمْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، وَلا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ، لا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولَ : لا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ " ، الرِّقَاعُ أَرَادَ ثِيَابًا ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت) میں خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں تم میں کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو۔ وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری مدد کیجئے، تو میں یہ کہوں، میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی بکری ہو جو آواز نکال رہی ہو۔ وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! (میری مدد کیجئے) تو میں یہ کہوں میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی گھوڑا ہو جو آواز نکال رہا ہو وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری مدد کیجئے تو میں یہ کہوں میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی شخص ہو جو چیخ رہا ہو وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری مدد کیجئے تو میں یہ کہوں میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن میں رقاع (یعنی کپڑے کے ٹکڑے) ہو وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری مدد کیجئے اور میں کہوں میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے تو اس کی گردن پر کوئی خاموش ہو وہ شخص عرض کرے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری مدد کریں اور میں کہوں میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ لفظ ” رقاع “ سے مراد کپڑے ہیں۔ یہ بات امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4848
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4828»