کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - ایک لفظہ کا ذکر جس نے غیر ماہر کو یہ گمان دلایا کہ یہ دونوں مذکورہ خبروں کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 4841
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : " مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمٍ فَلَهُ سَلَبُهُ " ، قَالَ : فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبٍ وَاحِدٍ وَعِشْرِينَ نَفْسًا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمٍ فَلَهُ سَلَبُهُ ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلا فَلَهُ سَلَبُهُ ، مَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ مَنْ قَتَلَ وَحْدَهُ ، فَلَهُ سَلَبُ الْمَقْتُولِ إِذَا كَانَ مُنْفَرِدًا بِدَمِهِ ، وَإِذَا اشْتَرَكَ جَمَاعَةٌ فِي قَتْلِ وَاحِدٍ كَانَ السَّلَبُ بَيْنَهُمْ ، لأَنَّ الْعِلَّةَ الَّتِي هِيَ مَوْجُودَةٍ فِي قَاتِلٍ وَاحِدٍ وُجِدَتْ فِي الْقَاتِلِينَ إِذَا اشْتَرَكُوا فِي دَمٍ وَاسْتَوَى حُكْمُهُمْ وَحُكْمُ الْمُنْفَرِدُ فِيمَا وَصَفْنَا .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی کے خون میں منفرد ہو اس کا ساز و سامان سے ملے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن اکیس آدمیوں کا ساز و سامان حاصل کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” جو شخص کسی کے خون میں منفرد ہو اس کا ساز و سامان اسے ملے گا “ (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:) جو شخص کسی کو قتل کر دے اس کا ساز و سامان اسے ملے گا ان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے جس اکیلے شخص نے کسی کو قتل کیا ہو تو مقتول کا ساز و سامان اسے ملے گا جب وہ اسے قتل کرنے میں منفرد ہو اور اگر کسی شخص کو قتل کرنے میں ایک جماعت حصے دار ہو تو وہ ساز و سامان ان کے درمیان تقسیم ہو گا اس کی وجہ یہ ہے: ایک قاتل میں جو علت پائی جا رہی ہے وہ کئی قاتلوں میں پائی جا رہی ہے اس وقت جب وہ کسی کے خون میں حصہ دار ہوں، تو ان کا حکم اور منفرد شخص کا حکم ایک ہی ہو گا۔