کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - وضاحت کہ اگر کسی نے مشرک کی آنکھ پھوڑ دی ہو تو اس کا سلب قاتل کو ملتا ہے اگرچہ اسے میدان میں نہ مارا ہو
حدیث نمبر: 4839
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " قَامَ رَجُلٌ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ " ، قَالَ : فَأَدْرَكْتُهُ ، فَقَتَلْتُهُ ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ " .
ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: وہ مشرکوں کا جاسوس ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اسے قتل کر دے گا تو اس (جاسوس) کا ساز و سامان (یعنی اس کے ہتھیار وغیرہ) اسے مل جائیں گے (سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے اس تک پہنچ کر اسے قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ساز و سامان مجھے عطا کر دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4839
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2383): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4819»