کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - اس سبب کا ذکر کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں اپنے مقتول کا سلب کیوں نہ لیا
حدیث نمبر: 4838
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالشَّاءِ وَالإِبِلِ وَالْغَنَمِ ، فَجَعَلُوهَا صَفَّيْنِ لِيُكْثِرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَالْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ ، فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ ، كَمَا قَالَ اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ نَضْرِبْ بِسَيْفٍ وَلَمْ نَطْعَنْ بِرُمْحٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ : " مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ " ، فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلا وَأَخَذَ أَسْلابَهُمْ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ ، فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذَهَا ، فَانْظُرْ مَعَ مَنْ هِيَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنِّي وَأَعْطِنِيهَا ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ ، وَيُعْطِيكَهَا ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : صَدَقَ عُمَرُ ، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، مَا هَذَا مَعَكِ ؟ قَالَتْ : أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ ؟ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْتُلُ بِهَا الطُّلَقَاءَ ، انْهَزَمُوا بِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر ہوازن قبیلے کے لوگ بکریاں اور اونٹ لے آئے انہوں نے اپنی دو صفیں بنا لیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ شدت سے حملہ کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب مسلمانوں اور مشرکین کا سامنا ہوا تو (کچھ) مسلمان پیٹھ پھیر کر واپس پلٹ گئے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو پسپا کر دیا حالانکہ (ایسا) ہمارے تلوار کے ذریعے (انہیں) مارنے یا نیزے کے ذریعے زخمی کرنے کی وجہ سے نہیں ہوا تھا۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو تو اس (کافر) کا ساز و سامان اسے ملے گا۔ “ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیسں آدمیوں کو قتل کیا تھا ان کا ساز و سامان انہوں نے حاصل کر لیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک کافر کی گردن پر وار کیا اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔ (پھر وہ مارا گیا) میں اس کی زرہ حاصل نہیں کر سکا اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں کہ وہ کس کے پاس ہے؟ تو ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ میں نے حاصل کر لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میری طرف سے راضی کر دیں اور وہ (زرہ) مجھے عطا کر دیں۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت شریفہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا تو وہ چیز عطا کر دیتے تھے یا پھر خاموش رہتے تھے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ” نہ “ نہیں کرتے تھے) اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک شیر کو وہ (زرہ) مال فے کے طور پر عطا کی ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں دے دیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عمر نے ٹھیک کہا: ہے۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس موقع پر) سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ہوئی ان کے پاس خنجر تھا سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے ام سلیم! یہ تمہارے پاس کیوں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ ارادہ کیا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسے اس کے پیٹ میں گھونپ دوں گی تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے سنا ام سلیم کیا کہہ رہی ہے؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اس کے ذریعے ان طلقاء کو قتل کر دوں گی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ام سلیم! بے شک اللہ تعالیٰ نے کفایت کر دی ہے اور (جنگ کا نتیجہ) عمدہ رکھا ہے۔