کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ اگرچہ اس میں کچھ ناپسندیدہ باتیں سننے کو ملیں تب بھی وہ خمُسِ خمسہ میں «المؤلفة قلوبهم» کو دے دے
حدیث نمبر: 4829
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ ، فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، وآثرَ نَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا عُدِلَ فِيهَا ، وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " ، فَقُلْتُ : لا جَرَمَ ، لا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت) تقسیم کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو ترجیح دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ دیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیینہ بن حصن کو بھی اتنے ہی (اونٹ) دیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرب سرداروں کو ترجیحی طور پر (زیادہ) ادائیگی کی تو ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اس تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ضرور بتاؤں گا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر (یعنی غصہ کی وجہ سے سرخ) ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی انصاف سے کام نہیں لیں گے تو پھر کون انصاف سے کام لے گا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے انہیں اس سے زیادہ ایذاء پہنچائی گئی، لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے طے کیا: اب میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک (اس نوعیت کی) کوئی بات نہیں پہنچاؤں گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4829
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3175). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4809»