کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرزِ عمل کا سبب کہ آپ «المؤلفة قلوبهم» کو وہ حصہ دیتے تھے اس کی علت
حدیث نمبر: 4828
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : " لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلَيَّ ، فَمَا زَارَ يُعْطِينِي حَتَّى أَنَّهُ لأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ " .
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (مال) عطا کیا۔ پہلے آپ میرے نزدیک ناپسندیدہ ترین شخصیت تھے۔ آپ مجھے مسلسل (عطیات) دیتے رہے یہاں تک کہ آپ میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہو گئے۔