کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - اہلِ حرب کی غنیمت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خمُس لینے کی شرعی حیثیت اور اس کا تبیین
حدیث نمبر: 4826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، ثُمَّ هِيَ لَكُمْ " .
ہمام بن منبہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیثیں بیان کی تھیں، پھر انہوں نے کچھ روایات ذکر کیں، جن میں ایک روایت یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو بھی بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتی ہے اس کے (مال غنیمت میں سے) خمس اللہ اور اس کے رسول کو ملے گا اور پھر وہ تمہیں ملے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4826
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2680). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4806»