کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - قریبی رشتہ داروں میں ہمارے ذکر کردہ حصّے کی تقسیم میں امام پر کیا لازم ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 4824
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ خَرَجَ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ، عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ ؟ فَقَالَ : " هُوَ لأَقْرِبَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ عَرْضًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ ، فَكَانَ عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ ، وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ ، وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ " .
یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی آزمائش کے زمانے میں نجدہ حروری نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا اور ان سے یہ دریافت کیا: ذوی القربیٰ کا مخصوص حصہ کے ملے گا؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو ملے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حصہ ان میں ہی تقسیم کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ حصہ ہمیں پیش کیا تھا جس کے بارے میں ہماری یہ رائے تھی کہ یہ ہمارے حق سے کم ہے تو ہم نے اسے واپس کر دیا اور اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ ان رشتہ داروں کو اس حصہ میں سے پیش کش کرتے تھے کہ نکاح کرنے والے کی مدد کر دیتے ہیں یا تاوان ادا کرنے والے کی طرف سے ادائیگی کر دیتے ہیں یا غریب شخص کو دے دیتے ہیں، لیکن انہوں نے مزید ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4824
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2641): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4804»