کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - اس سبب کا ذکر جس کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنائم کے خمس اور پانچوں کو مخصوص طور پر روک کر رکھتے تھے
حدیث نمبر: 4823
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ ، وَفَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا نُوَرَّثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ ، لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ " ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْ ذَلِكَ ، فَهَجَرَتْهُ ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ ، وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَيْلا ، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ ، فَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ ، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا انْصَرَفَتْ وجُوهُ النَّاسِ عَنْ عَلِيٍّ حَتَّى أَنْكَرَهُمْ ، فَضَرَعَ عَلِيٌّ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى مُصَالَحَةِ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتِهِ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الأَشْهُرَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ ، وَكَرِهَ عَلِيٌّ أَنْ يَشْهَدَهُمَ عُمَرُ لِمَا يَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ عُمَرَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ : وَاللَّهِ لا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَمَا عَسَى أَنْ يَفْعَلُوا بِي ، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ، فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ ، وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ ، وَإِنَّا لَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ ، وَكُنَّا نَرَى لَنَا حَقًّا ، وَذَكَرَ قَرَابَتَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَقَّهُمْ ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَكَلَّمُ ، حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي ، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي لَمْ أَكُنْ لأَتْرُكَ فِيهَا أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِيهَا إِلا صَنَعْتُهُ ، قَالَ عَلِيٌّ : مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ ، فَلَمَّا أَنْ صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلاةَ الظُّهْرِ ارْتَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَلا إِنْكَارُ فَضِيلَتِهِ الَّتِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهَا وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الأَمْرِ نَصِيبًا وَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ ، وَقَالُوا لِعَلِيٍّ : أَصَبْتَ ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ عَلَى الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے اس مال میں سے اپنے وراثت کے حصے کا مطالبہ کیا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کیا تھا وہ مدینہ منورہ اور فدک میں موجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کی زمینوں) کے صدقے (میں سے اپنے حصے) کی طلب گار تھیں۔ اور اس میں سے بھی جو خیبر کے خمس میں سے باقی بچتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” ہماری (یعنی انبیاء کی) وراثت نہیں ہوتی۔ ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر والے اس مال میں سے صرف اپنی خوراک حاصل کر سکتے ہیں، ان کے لیے خوراک سے زیادہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات (کو خرچ کرنے) میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا۔ یہ اسی حالت میں رہیں گے، جس حالت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تھے اور میں انہیں اسی طرح استعمال کروں گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں استعمال کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کوئی بھی چیز سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے انتقال تک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لاتعلقی اختیار کی اور ان سے کبھی بات نہیں کی۔ ان کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے 6 ماہ بعد ہوا۔ جب ان کا انتقال ہو گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت ہی دفن کر دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہیں دی۔ ان کی نماز جنازہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مل لیتے تھے لیکن جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو لوگوں کی توجہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہٹ گئی اور لوگ ان کے لئے اجنبی ہو گئے۔ اس بات نے انہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے اور ان کی بیعت کرنے کی طرف مائل کیا۔ ان (6) مہینوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا۔ آپ ہمارے ہاں آئیں، لیکن آپ کے ساتھ کوئی نہ آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمراہ ہوں، کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مزاج کی سختی سے واقف تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ اکیلے ان لوگوں کے ہاں نہیں جائیں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ مجھے کچھ نہیں کہیں گے۔ اللہ کی قسم! میں ان کے پاس ضرور جاؤں گا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ کہا: اے ابوبکر! آپ کی فضیلت اور جو (خصوصیات) اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہیں، ہم ان سے واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو بھلائی عطا کی ہے ہم اس کا انکار نہیں کرتے لیکن حکومت کے معاملے میں آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ہماری یہ رائے ہے کہ ہم اس کا حق رکھتے ہیں، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت اور اپنے حق کا تذکرہ کیا۔ وہ مسلسل بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی تو انہوں نے کہا: ” اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں (کے ساتھ اچھا سلوک کرنا) مجھے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے جو ان صدقات کے حوالے سے میرے اور آپ کے درمیان اختلاف ہوا تو میں نے ان کے بارے میں بھلائی کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ میں نے ان کے بارے میں کوئی ایسا کام ترک نہیں کیا جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں کرتے ہوئے دیکھا، میں نے وہی کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بیعت کے لئے آپ سے شام کو ملاقات ہو گی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کر لی تو وہ منبر پر چڑھے انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیعت نہ کرنے کے معاملے اور ان کے عذر کا ذکر کیا اور پھر کلمہ استغفار پڑھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عظمت کا اعتراف کیا اور اس بات کا ذکر کیا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی ناراضگی یا ان کی اس فضیلت کے انکار کی وجہ سے نہیں تھا، جو فضیلت اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہے۔ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی:) ہم یہ سمجھتے ہیں حکومت میں ہمارا حصہ ہونا چاہیے تھا اور انہوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے اس کی وجہ سے ہمیں ناراضگی تھی۔ (لیکن اب میں بیعت کر رہا ہوں) اس پر مسلمان بہت خوش ہوئے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ٹھیک کیا ہے۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے درست موقف کی طرف رجوع کر لیا تو مسلمان پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4823
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2630). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4803»