کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - امام پر مستحب ہے کہ وہ تقسیم میں رعایا کے روئے عمل کا صبر و برداشت کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے
حدیث نمبر: 4820
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَمْلاهُ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَهُ الأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ ، فَاضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ حَتَّى خُطِفَ رِدَاؤُهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَوَقَفَ ، فَقَالَ : " رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي ، أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ ، فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لا تَجِدُونِي بَخِيلا ، وَلا جَبَانًا ، وَلا كَذَّابًا " .
محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں: ان کے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے انہیں یہ بات بتائی ہے: ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اور بھی لوگ تھے یہ غزوہ حنین سے واپسی کی بات ہے کچھ دیہاتیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگ رہے تھے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمرہ کے درخت کی طرف جانے پر مجبور کر دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کھینچ لی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سواری پر سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری چادر مجھے واپس کرو، کیا تمہیں میرے بارے میں بخل کا اندیشہ ہے؟ اگر یہ تمام شاخیں نعمتوں میں تبدیل ہو جائیں تو میں ان سب کو تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا اور تم مجھے بخیل یا بزدل یا جھوٹا نہیں پاؤ گے۔