کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - اس خبر المدحض کا بیان جو ان لوگوں کے قول کو رد کرتا ہے جنہوں نے کہا کہ لیث بن سعد نے یہ خبر ابن ابی ملیکہ سے نہ سنی
حدیث نمبر: 4818
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيَّ ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ لَهُ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ ، فَقَالَ : " قَدْ خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ " ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَضِيَ مَخْرَمَةُ " .
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اندر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لاؤ۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس باہر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قباء تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میں نے تمہارے لیے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مخرمہ راضی ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4818
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4798»