کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - ایک ایسی روایت کا ذکر جس کے تاویلات میں بعض غیر ماہرین نے غلط فہمی ظاہر کی ہے
حدیث نمبر: 4816
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ التَّاجِرُ بِمَرْوٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ قَسَمَهُ فِي يَوْمِهِ فَأَعْطَى الآهِلَ حَظَّيْنِ ، وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ كَانَ يَقْسِمُهُ مِنْ يَوْمِهِ ، ثُمَّ يُعْطِي الآهِلَ حَظَّيْنِ ، وَالْعَزَبَ حَظًّا مِنْ خُمْسٍ خَمَّسَهُ ، لأَنَّهُ كَانَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي الْفَيْءِ عَلَى الْعُزُوبَةِ وَالتَّأَهُّلِ .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال فے آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی دن میں تقسیم کر دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بال بچے دار شخص کو دو حصے عطا کرتے تھے اور کنوارے کو ایک حصہ عطا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مال فے آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی دن میں تقسیم کر دیتے اور بال بچے دار شخص کو دو حصے عطا کرتے اور کنوارے کو ایک حصہ عطا کرتے۔ (یہ احتمال ہے) یہ ادائیگی مال خمس میں سے کی جاتی ہو گی کیونکہ آپ بال بچے دار اور کنواروں کو مختلف نوعیت کی ادائیگی کرتے تھے۔