کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ جو مسلمانوں کا مددگار رہا یا دشمن کے راستہ میں رکاوٹ ڈالا مگر معرکہ نہ دیکھا اسے غنیمت میں حصہ نہیں ملتا
حدیث نمبر: 4815
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الأَوْزَاعِيَّ ، عَنْ سِهَامِ مَنْ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ وَالْقِتَالَ مِنَ الْمَدَدِ ؟ فَقَالَ : " لا يُسْهَمُونَ أَلا تَرَى إِلَى الطَّائِفَتَيْنِ تَدْخُلانِ مِنْ دَرْبِ وَاحِدٍ أَوْ دَرْبَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ ، فَتَغْنَمُ إِحْدَاهُمَا وَلا تَغْنَمُ الأُخْرَى ، وَإِحْدَاهُمَا قُوَّةٌ لِلأُخْرَى ، فَلا تُشْرِكُ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غَنِمَا جَمِيعًا أَوْ غَنِمَ أَحَدُهُمَا ، بِذَلِكَ مَضَى الأَمْرُ فِيهِمْ " . قَالَ قَالَ الْوَلِيدُ : فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ ، عَلَيْهَا أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا تَقْسِمْ لَهُمْ ، فَقَالَ : فَغَضِبَ أَبَانُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلا يَا أَبَانُ " ، وَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَقْسِمَ لَهُمْ شَيْئًا " .
ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ابوعمرو سے ایسے شخص کو حصہ دینے کے بارے میں دریافت کیا: جو فتح اور جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ایسے لوگوں کو کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا، کیا تم نے غور نہیں کیا؟ دو گروہ ایک ہی راستے سے یا دو مختلف راستوں سے (قلعہ کے اندر) داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اور دوسرے گروہ کو مال غنیمت حاصل نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک گروہ دوسرے کی قوت ہوتا ہے لیکن ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کا مال غنیمت میں شراکت دار نہیں ہوتا۔ خواہ ان دونوں نے مال غنیمت حاصل کیا ہو یا ان میں سے کسی ایک نے مال غنیمت حاصل کیا ہو۔ ان کے درمیان فیصلہ اسی طرح ہوتا ہے۔ ولید کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ سعید بن عبدالعزیز سے کیا، تو انہوں نے بتایا۔ میں نے زہری کو سعید بن مسیب کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت ایک جنگی مہم روانہ کی، اس مہم کے امیر سیدنا ابان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ تھے، وہ خیبر فتح ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ (مال غنیمت میں سے) انہیں حصہ نہ دیجئے گا، تو ابان غصے میں آ گئے اور انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ان پر نیزہ تان لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابان ٹھہر جاؤ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو (مالِ غنیمت میں سے) کچھ دینے سے انکار کر دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4815
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4795»