کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - ایسی روایت کا ذکر جو غیر ماہرِ فنِ حدیث کو حضرت ابوموسیٰ کی روایت کے مقابل محسوس ہو سکتی ہے
حدیث نمبر: 4814
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو ، عَنْ إِسْهَامِ مَنْ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ وَالْقِتَالَ ، فَقَالَ : " لا يُسْهَمُونَ أَلا تَرَى الطَّائِفَتَيْنِ تَدْخُلانِ مِنْ دَرْبِ وَاحِدٍ أَوْ دَرْبَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ ، فَتَغْنَمُ إِحْدَاهُمَا ، وَلا تَغْنَمُ الأُخْرَى ، وَإِحْدَاهُمَا قُوَّةٌ لِلأُخْرَى ، فَلا تُشْرِكُ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غَنِمَا جَمِيعًا أَوْ غَنِمَ أَحَدُهُمَا بِذَلِكَ مَضَى الأَمْرُ فِيهِمْ " . قَالَ قَالَ الْوَلِيدُ : فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ عَلَيْهَا أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا تَقْسِمْ لَهُمْ فَغَضِبَ أَبَانُ وَنَالَ مِنْهُ ، قَالَ : وَحَمَلَ عَلَيْهِ بِرُمْحِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلا يَا أَبَانُ " ، وَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهُمْ شَيْئًا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْجَيْشُ إِذَا فَتَحَ مَوْضِعًا مِنْ مَوَاضِعِ أَعْدَاءِ اللَّهِ لَحِقَ بِهِمْ جَيْشٌ آخَرُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ فَرَاغِهِمْ مِنْ فَتْحِهِمِ يَجِبُ أَنْ تُقْسَمَ الْغَنَائِمُ بَيْنَ الْجَيْشِ الَّذِي كَانَ الْفَتْحُ لَهُمْ ، فَيُسْهَمُ لِلْفَارِسِ ثَلاثَةُ أَسْهُمٍ سَهْمَانِ لِفَرَسِهِ وَسَهْمٌ لَهُ ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ وَاحِدٌ ، وَلا يُسْهَمُ لِمَنْ أَتَى بَعْدَ الْفَتْحِ مِمَّا غَنِمُوا شَيْئًا إِلا أَنْ يَكُونَ الْجَيْشُ الَّذِي لَحِقَ بِالْجَيْشِ الأَوَّلِ كَانُوا مَدَدًا لَهُمْ ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ كَانُوا كَأَنَّهُمَا جَيْشٌ وَاحِدٌ أَصْلُهُمْ وَاحِدٌ ، وَيَكُونُ مَدَدُهُمْ عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَيْهِمْ ، فَحِينَئِذٍ يُسْهَمُ لَهُمْ كُلِّهِمْ ، وَأَمَّا إِسْهَامُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلأَشْعَرِيِّينَ بَعْدَمَا فَتَحَ خَيْبَرَ كَانَ ذَلِكَ مِنْ خُمْسٍ خَمَّسَهُ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ لِيَسْتَمِيلَ بِذَلِكَ قُلُوبَهُمْ ، لا أَنَّهُمْ أُعْطُوا مِنْ مَغَانِمِ خَيْبَرَ حَيْثُ لَمْ يَشْهَدُوا فَتْحَهُ " .
ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ابوعمرو سے ایسے شخص کو حصہ دینے کے بارے میں دریافت کیا: جو فتح اور جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ایسے لوگوں کو کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا کیا تم نے غور نہیں کیا؟ دو گروہ ایک ہی راستے سے یا دو مختلف راستوں سے (قلعہ کے اندر) داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اور دوسرے گروہ کو مال غنیمت حاصل نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک گروہ دوسرے کی قوت ہوتا ہے لیکن ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کا مال غنیمت میں شراکت دار نہیں ہوتا۔ خواہ ان دونوں نے مال غنیمت حاصل کیا ہو یا ان میں سے کسی ایک نے مال غنیمت حاصل کیا ہو۔ ان کے درمیان فیصلہ اسی طرح ہوتا ہے۔ ولید کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ سعید بن عبدالعزیز سے کیا، تو انہوں نے بتایا۔ میں نے زہری کو سعید بن مسیب کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت ایک جنگی مہم روانہ کی اس مہم کے امیر سیدنا ابان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ تھے وہ خیبر فتح ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ (مال غنیمت میں سے) انہیں حصہ نہ دیجئے گا تو ابان غصے میں آ گئے اور انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ان پر نیزہ تان لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابان! ٹھہر جاؤ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو (مال غنیمت میں سے) کچھ دینے سے انکار کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب کوئی لشکر اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے کسی علاقے کو فتح کر لے اور پھر مسلمانوں کا دوسرا لشکر ان لوگوں کے فتح حاصل کر لینے کے بعد ان سے آ کر ملے تو یہ بات لازم ہے مال غنیمت صرف ان لوگوں میں تقسیم کیا جائے جنہوں نے فتح حاصل کی تھی۔ (اس تقسیم میں) گھڑ سوار کو تین حصے دیئے جائیں گے دو حصے اس کے گھوڑے کے ہوں گے اور ایک حصہ گھڑ سوار کا ہو گا۔ پیادہ شخص کو ایک حصہ ملے گا، جو لوگ فتح حاصل ہو جانے کے بعد آئے ہوں انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا البتہ جو لشکر بعد میں آ کر پہلے لشکر سے ملا ہے اگر وہ مدد کے لیے آیا تھا تو پھر حکم مختلف ہو گا، کیونکہ اس صورت میں دونوں لشکر ایک ہی لشکر شمار ہوں گے کیونکہ ان کی اصل ایک ہے اور اگر دوسرے لشکر کی (اس جنگ میں) مدد کی ضرورت ہوتی تو انہوں نے مدد کرنی تھی۔ اس صورت میں ان سب کو حصہ دیا جائے گا۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشعر قبیلے کے افراد کو خیبر فتح ہونے کے بعد حصہ دینے کا تعلق ہے تو وہ حصہ ” خمس “ میں سے دیا گیا تھا۔ وہ ” خمس“ جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ مائل ہو جائیں۔ ایسا نہیں ہے انہیں خیبر کے مال غنیمت میں سے حصہ دیا گیا اس صورت میں، جبکہ وہ اس کی فتح میں شریک ہی نہیں ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4814
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح دون جملة الرمح - (قال معد الكتاب للشاملة: هي في تتمة الحديث، انظر ما بعده) - «صحيح أبي داود» (2434 - 2435). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4794»