کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - جب مسلمانوں نے غنیمت حاصل کی تو اس میں کیا اعمال کیے جاتے ہیں اس کی وصف و ترتیب۔
حدیث نمبر: 4809
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ مَغْنَمًا أَمَرَ بِلالا فَنَادَى فِي النَّاسِ ، فَيَجِيءُ النَّاسُ بِغَنَائِمِهِمْ ، فَيُخَمِّسُهُ وَيُقَسِّمُهُ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ ، فَقَالَ : أَمَا سَمِعْتَ بِلالا يُنَادِي ثَلاثًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ ؟ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُنْ أَنْتَ الَّذِي يَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَلَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت حاصل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں، تو لوگ اپنے اپنے مال غنیمت کو لے آتے (ایک مرتبہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ” خمس “ نکال کر بقیه مال تقسیم کر دیا تو اس کے بعد ایک شخص بالوں سے بنی ہوئی رسی لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے بلال کا تین مرتبہ کیا ہوا اعلان نہیں سنا تھا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں (سنا تھا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: پھر کیا وجہ ہے تم اسے پہلے کیوں لے کر نہیں آئے؟ اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معذرت پیش کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم ایسے ہو جاؤ “ کہ اگر تم اسے قیامت کے دن بھی لے کر آؤ گے تو میں اسے تم سے قبول نہیں کروں گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4809
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (2429). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4789»