کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - اس بات کا بیان کہ غنائم کسی امت کے لیے مخصوص طور پر حلال نہیں ہوتیں مگر اس امت کے لیے یہ حکم آیا۔
حدیث نمبر: 4808
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ : لا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ نَاكَحَ امْرَأَةً وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا ، وَلا رَفَعَ بِنَاءً وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُفَهَا ، وَلا اشْتَرَى غَنَمًا وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلادَهَا ، فَغَزَا ، فَدَنَا إِلَى الدَّيْرِ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ ، أَوْ قَرُبَ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ : إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ ، وَأَنَا مَأْمُورٌ ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا ، فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ ، فَأَبَتِ النَّارُ أَنْ تَطْعَمَهُ ، فَقَالَ : فِيكُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ ، فَبَايَعَهُ ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ فِيكُمُ الْغُلُولَ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ ، فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ ، فَلَصِقَتْ بِيَدِهِ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ ، فَأَخْرَجُوا مِثْلَ رَأْسِ الْبَقَرَةِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ ، فَأَكَلَتْهُ ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضَعْفَنَا ، فَطَيَّبَهَا لَنَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک نبی علیہ السلام جنگ کے لیے تشریف لے جانے لگے، تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: کوئی ایسا شخص میرے ساتھ نہ جائے جس نے کسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیا ہو اور اب وہ اس عورت کی رخصتی کروانا چاہتا ہو یا جس نے عمارت بنا لی ہو اور ابھی چھت نہ ڈالی ہو یا اس نے بکری خریدی اور وہ اس بکری کے ہاں بچے ہونے کا منتظر ہو جب عصر کا وقت ہوا یا اس کے قریب کا وقت ہوا تو وہ عبادت گاہ کے قریب آئے اور انہوں نے سورج سے فرمایا: تم بھی حکم کے پابند ہو اور میں بھی حکم کا پابند ہوں اے اللہ! اسے میرے لیے کچھ دیر کے لیے (غروب ہونے سے) روک دے تو اسے روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا کر دی۔ انہیں جو مال غنیمت حاصل ہوا تھا وہ انہوں نے اکٹھا کیا تاکہ آگ آ کر اسے کھا لے لیکن آگ نے اسے نہیں کھایا تو انہوں نے فرمایا: تمہارے درمیان خیانت کا ارتکاب کیا گیا ہے ہر قبیلے کا ایک شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے تو ان کی بیعت شروع ہوئی ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا تو اس نبی نے فرمایا: خیانت تمہارے (قبیلے) میں ہوئی ہے۔ تمہارا قبیلہ میری بیعت کرے۔ اس شخص کے قبیلے نے ان کی بیعت کی تو دو (راوی کو شک ہے یا شاید) تین افراد کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا تو انہوں نے فرمایا: خیانت تم نے کی ہے تو ان لوگوں نے سونے سے بنا ہوا گائے کا سر نکالا اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا۔ جو ایک کھلے میدان میں پڑا تھا تو آگ آئی اور اسے کھا گئی۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ہم سے پہلے کسی کے لیے بھی مال غنیمت کو حلال قرار نہیں دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے: جب اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری ملاحظہ کی تو ہمارے لیے اسے پاکیزہ (یعنی حلال) قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4808
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2742): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4788»