کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - اس وقت کا ذکر جب آیتِ الأنفال نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 4806
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ ، كَانَتْ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ نَارٌ فَتَأْكُلُهَا ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَقَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 68 " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تم سے پہلے کسی بھی امت کے لیے مال غنیمت حلال قرار نہیں دیا گیا (پہلے زمانے میں) آسمان کی طرف سے آگ نازل ہوتی تھی اور مال غنیمت کو کھا جاتی تھی۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں) غزوہ بدر کے موقع پر جب لوگ مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ” اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے (تقدیر میں) پہلے طے نہ ہو چکا ہوتا تو تم نے جو حاصل کیا اس کی وجہ سے تمہیں عظیم عذاب لاحق ہوتا۔ “