کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - آیتِ الأنفال «وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ» کی تفسیر بتانے والی روایت۔
حدیث نمبر: 4805
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلا رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ ، فَاسْتَدْبَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ ، فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً ، فَقَطَعْتُ مِنْهُ الدِّرْعَ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، فَأَرْسَلَنِي ، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا بَالُ النَّاسِ ؟ فَقَالَ أَمْرُ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ رَجَعُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ " ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَقُمْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ، فَقُمْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ؟ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي ، فَأَرْضِهِ مِنِّي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لا هَاللَّهُ ، إِذًا لا يَعْمِدُ إِلَيَّ أَسَدٌ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَأَعْطَانِيهِ ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ ، فَابْتَعْتُ مِنْهُ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ ، فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلامِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ دَالٌّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ جَلَّ وَعَلا : فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ سورة الأنفال آية 41 أَرَادَ بِذَلِكَ بَعْضَ الْخُمُسِ ، إِذِ السَّلَبُ مِنَ الْغَنَائِمِ ، وَلَيْسَ بِدَاخِلٍ فِي الْخُمُسِ بِحُكْمِ الْمُبَيِّنِ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا مُرَادُهُ مِنْ كِتَابِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حنین کے سال ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہمارا (اور دشمن کا) سامنا ہوا (تو جنگ کے دوران) مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر غالب آ چکا تھا، میں گھوم کر اس (مشرک کے) پیچھے آ گیا، میں نے اس کے کندھے پر ضرب لگا کر اس کی زرہ کاٹ دی وہ میری طرف بڑھا اور اس نے مجھے اتنے زور سے بھینچا کہ مجھے موت کی خوشبو محسوس ہوئی، لیکن پھر وہ مر گیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے ان سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کا حکم ہے۔ جب لوگ (اس جنگ سے) واپس آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی (کافر) کو قتل کیا ہو اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو، تو مقتول کا ساز و سامان اس شخص کو ملے گا سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کھڑا ہوا پھر میں نے سوچا، میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ تو میں بیٹھ گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی (کافر) کو قتل کیا اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو تو اس مقتول کا ساز و سامان اسے ملے گا میں کھڑا ہوا پھر مجھے خیال آیا میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ میں پھر بیٹھ گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی بات ارشاد فرمائی تو میں کھڑا ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ابوقتادہ! کیا معاملہ ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں اس مقتول کا ساز و سامان میرے پاس ہے آپ انہیں میری طرف سے راضی کر دیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: ہرگز نہیں! اللہ تعالیٰ کا ایک شیر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ میں حصہ لے اور (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) اس کا سامان تمہیں دے دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہ اسے دے دو، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس نے وہ مجھے دے دیا، میں نے زرہ کو فروخت کر کے بنو سلمہ کے محلے میں کھجوروں کا باغ لے لیا اسلام قبول کرنے کے بعد یہ وہ پہلی زمین تھی جو میں نے خریدی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ” اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہو گا “ اس سے مراد بعض خمس ہے ‘ کیونکہ (مقتول کے جسم کا) ساز و سامان بھی مال غنیمت میں شامل ہوتا ہے، لیکن وہ خمس میں شامل نہیں ہوتا یہ بات اس ہستی کے حکم کے ذریعے ثابت ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے احکام کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وضاحت کرنے والے ہیں۔