کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اس روایت کا ذکر جو بیان کرتی ہے کہ یومِ بدر کے بعد اہل بدر کے جو گناہ ہوئے وہ اللہ نے بخش دیے۔
حدیث نمبر: 4798
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ عَمِيَ ، فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ تَعَالَ فَاخْطُطْ فِي دَارِي مَسْجِدًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ قَوْمُهُ ، وَبَقِيَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ فُلانٌ ؟ فَغَمَزَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ إِنَّهُ ، وَإِنَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنَّهُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نابینا ہو گئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز کے لیے کسی جگہ کو مخصوص کر دیں، تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے لوگ آپ کی خدمت میں اکٹھے ہو گئے ان میں سے ایک شخص نہیں آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فلاں شخص کہاں ہے تو ایک صاحب نے اس پر الزام عائد کرتے ہوئے یہ کہا: وہ ایسا ہے وہ ویسا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ بدر میں شریک نہیں ہوا؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! لیکن وہ اس اس طرح کے کام کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ہے تم جو چاہو عمل کرو۔ میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔