کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - جو لوگ بدر میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے ان کے بعد کیے گئے گناہوں کی مغفرت کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4797
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَهُمْ ، فَدَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَأَخَذَ كِتَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا ، فَقَالَ : يَا حَاطِبُ ، أَفَعَلْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا نِفَاقًا ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ سَيُظْهِرُ رَسُولَهُ وَيُتِمُّ أَمْرَهُ ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ غَرِيبًا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ، فَكَانَتْ أَهْلِي مَعَهُمْ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَهَا عِنْدَهُمْ يَدًا ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلا أَضْرِبُ رَأْسَ هَذَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَقْتُلُ رَجُلا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو خط لکھا کہ جس میں یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی طرف رہنمائی کر دی جس کے ہمراہ وہ خط تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی طرف (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو) بھیجا انہوں نے اس کے سر (کے بالوں) میں سے وہ خط حاصل کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے حاطب کیا تم نے ایسا کیا ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں میں نے اللہ کے رسول کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا نہ ہی منافقت کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ میں یہ بات جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے اس بات کو ظاہر کر دے گا اور اپنے معاملے کو پورا کرے گا، لیکن میں ان لوگوں کے درمیان اجنبی ہوں۔ میرے اہل خانہ ان کے ساتھ تھے۔ اس لیے میں ان پر احسان کرنا چاہتا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا میں اس کا سر نہ اڑا دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ تمہیں کیا پتہ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا ہو: تم جو چاہو عمل کرو۔