کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - دوسری روایت کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ جنگ کے اہل عورتیں اور بچے اگر لڑیں تو انہیں قتل کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 4790
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ ظَلَمَ مِنَ الأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَثْبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهَادَةَ لِلْمَقْتُولِ دُونَ مَالِهِ ، وَأَبَاحَ قِتَالَ قَاتِلِهِ ، وَالْخَبَرُ عَلَى الْعُمُومِ ، فَلَمَّا كَانَ قِتَالُ الْمَرْءِ مَعَ الْمُسْلِمِ الْمُحَرَّمِ دَمُهُ عِنْدَ أَخْذِ مَالِهِ جَائِزًا ، كَانَ قِتَالُ مِثْلِهِ مَعَ الْمَرْءِ الَّذِي لَيْسَ بِمُحَرَّمٍ دَمُهُ وَلا مَالُهُ صَبِيًّا كَانَ أَوْ بَالِغًا ، امْرَأَةً كَانَتْ أَوْ عَبْدًا ، أَوْلَى أَنْ يَكُونَ جَائِزًا .
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے اور جو شخص کسی دوسرے کی زمین ایک بالشت کے برابر ناجائز طور پر حاصل کر لے، تو اس کو سات زمینوں جتنا وزنی طوق پہنایا جائے گا۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے شہادت کو برقرار رکھا ہے جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جاتا ہے اور اس کے لیے اپنے قاتل کے ساتھ لڑائی کرنے کو مباح قرار دیا ہے۔ روایت عموم سے تعلق رکھتی ہے تو جب آدمی کا کسی ایسے مسلمان کے ساتھ جس کا خون قابل احترام ہے اپنے مال کو دینے کی وجہ سے لڑنا جائز ہو جائے تو آدمی کا اس طرح کے شخص کے ساتھ لڑنا جائز ہو گا، جس کا خون یا مال اس کے لیے قابل احترام نہیں ہے خواہ وہ بچہ ہو یا بالغ عورت ہو یا غلام ہو تو اس بات کا زیادہ امکان ہے ایسا کرنا جائز ہو۔
حدیث نمبر: 4791
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بَحْرَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ وَالنَّاسُ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ ، أَدْرِكْ خَالِدًا ، فَقُلْ لَهُ : لا تَقْتُلْ ذُرِّيَّةً وَلا عَسِيفًا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الْمُرَقَّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ، وَسَمِعَهُ مِنْ جَدِّهِ ، وَجَدُّهُ رِيَاحٌ الرَّبِيعُ ، وَهُمَا مَحْفُوظَانِ .
سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا جس کے اردگرد لوگ جمع تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تو جنگ میں حصہ نہیں لیتی، خالد کے پاس جاؤ اور کہو کہ بچوں اور ملازمین کو قتل نہ کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مرقع بن صیفی نے یہ روایت سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے انہوں نے یہ روایت اپنے دادا سے بھی سنی ہے ان کے دادا سیدنا ریاح بن ربیع رضی اللہ عنہ ہیں یہ دونوں روایات محفوظ ہیں۔