کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - دارِ حرب میں اگنے والے (محاربین جو باہر آئے) کو قتل کرنے اور جو نہ نکلے ان پر پردہ ڈالنے کا حکم
حدیث نمبر: 4781
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَشَكَّوْا فِيَّ أَمِنَ الذُّرِّيَّةِ أَنَا أَمْ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا ، فَإِنْ كَانَ أَنْبَتَ الشَّعْرَ فَاقْتُلُوهُ ، وَإِلا فَلا تَقْتُلُوهُ " .
عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا جن کے بارے میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا ان لوگوں کو میرے بارے میں شک ہوا کہ کیا میں نابالغ ہوں، یا میں جنگجو لوگوں میں شمار ہوں گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کا جائزہ لو اگر اس کے زیر ناف بال اگے ہیں، تو اسے قتل کر دو اگر نہیں اگے تو پھر اسے قتل نہ کرنا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4781
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4761»