کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - جب قید کیے جائیں تو اس بات کی نشانی جس سے غنیمت (اسیر) اور مقابلے میں مارے گئے الگ ہوں
حدیث نمبر: 4780
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : " عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ ، فَشَكَّوْا فِيَّ ، فَقِيلَ لِي : هَلْ أَنْبَتَّ ، فَفَتَّشُونِي ، فَوَجَدُونِي لَمْ أُنْبِتْ ، فَخُلِّيَ سَبِيلِي " .
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ قریظہ کے موقع پر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ان لوگوں کو میرے بارے میں شک ہوا (کیا میں بالغ ہو چکا ہوں کہ نہیں) تو مجھ سے دریافت کیا گیا: کیا تمہارے زیر ناف بال اگ گئے ہیں ان لوگوں نے میری تلاشی لی تو انہیں پتہ چلا کہ میرے زیر ناف بال نہیں اگے ہیں، تو مجھے چھوڑ دیا گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4780
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (3974 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4760»