کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اگر امام کو دشمنوں پر غالبی حاصل ہو تو مستحب ہے کہ وہ لاشوں کو جمع کروا کر گڑھے (قریب) میں ڈالنے کا حکم دے
حدیث نمبر: 4778
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ ، فَقُذِفُوا فِي طَويٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ ، وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلاثَ لَيَالٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ ، فَشُدَّ عَلَيْهَا فَرَحَلَهَا ، ثُمَّ مَشَى وَتَبِعَهُ أَصْحَابُهُ ، فَقَالُوا : مَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ، حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةَ الرَّكِيِّ ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ ، يَا فُلانُ بْنَ فُلانٍ ، أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا ، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَكَلَّمَ مِنْ أَجْسَادٍ لا أَرْوَاحَ لَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، قَالَ قَتَادَةُ : أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنِقْمَةً وَحَسْرَةً وَتَنَدُّمًا " .
قتادہ بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا۔ غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے چوبیسں سرداروں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آ جاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے علاقے میں تین راتوں تک مقیم رہیں جب تیسرا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق آپ کی سواریوں پر پالان باندھ دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے پیچھے چلے۔ لوگوں نے کہا: ہمارا خیال ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے کر جانے لگے ہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس گڑھے کے کنارے تک آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کفاران قریش) کو ان کے نام اور ان کے باپوں کے نام لے کر مخاطب کیا اے فلاں بن فلاں کیا اب تمہاری یہ خواہش نہیں ہے تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ ہمارے پروردگار نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ہم نے تو اسے حق پا لیا ہے تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے حق پا لیا ہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ایسے اجسام کے ساتھ کیسے خطاب کر رہے ہیں، جن میں روح ہی نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں جو کہہ رہا ہوں تم ان لوگوں کے مقابلے میں مجھ سے زیادہ نہیں سن رہے (یعنی وہ بھی اسی طرح سن رہے ہیں جس طرح تم اسے سن رہے ہو)۔ قتادہ نامی راوی کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کیا تھا، یہاں تک کہ انہیں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز) اس لیے سنائی تھی تاکہ ان کی توبیخ ہو۔ ان کا کم تر ہونا ظاہر ہو۔ انہیں ذلت ہو۔ حسرت ہو اور ندامت ہو۔