کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - وہ حد جس کے بعد دشمن سے فرار جائز سمجھا جائے اس کا ذکر
حدیث نمبر: 4773
أَخْبَرَنَا بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يُقَاتِلَ الْوَاحِدُ عَشْرَةً ، فَثَقُلَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، وَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَوَضَعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ الْوَاحِدُ رَجُلَيْنِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ : إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ سورة الأنفال آية 65 إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 68 ، يَعْنِي غَنَائِمَ بَدْرٍ لَوْلا أَنِّي لا أُعَذِّبُ مَنْ عَصَانِي حَتَّى أَتَقَدَّمَ إِلَيْهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر یہ بات لازم قرار دی کہ ایک آدمی دس کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔ یہ بات ان کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بنی اور انہیں بہت گراں گزری۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو آسانی فراہم کی کہ ایک آدمی دو کے ساتھ مقابلہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ” اگر تم میں سے صبر کرنے والے بیسں افراد ہوں۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ” اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو تم نے جو کیا ہے اس پر تمہیں عظیم عذاب اپنی گرفت میں لے لیتا۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں) اس سے مراد غزوہ بدر کا مال غنیمت ہے اور مراد یہ ہے کہ اگر میں نے پہلے یہ طے نہ کیا ہوتا کہ اپنی نافرمانی کرنے والے کو عذاب نہیں دوں گا۔