کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - جنگ میں مسلمانوں کا ثابت قدم رہنا جس وقت وہ پسپائی کریں اللہ کو پسند ہے
حدیث نمبر: 4771
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ ، رَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ ، وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ ، فَأَعْطَاهُ سِرًّا لا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَهُمْ ، حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ ، فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَلَقُوا الْعَدُوَّ ، فَهُزِمُوا وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُمْ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آئے اور ان سے اللہ کے نام پر مانگے وہ ان کے ساتھ اپنی کسی رشتہ داری کی وجہ سے سوال نہ کرے تو ان میں سے ایک شخص الٹے قدموں واپس جائے اور اسے پوشیدہ طور پر کچھ دیدے۔ اس عطیے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور دینے والے شخص کے علاوہ اور کسی کو علم نہ ہو۔ (دوسری قسم کا شخص وہ ہیں) جو رات کے وقت سفر کر رہے ہوں، یہاں تک کہ نیند جب ان کے نزدیک سب سے زیادہ پیاری ہو تو وہ پڑاؤ کریں اور اپنا سر رکھ کر سو جائیں تو ایک شخص کھڑا ہو کر میری بارگاہ میں مناجات کرے۔ میری آیات کی تلاوت کرے (اور تیسرا شخص وہ ہے) جو کسی جنگ میں حصہ لے جب اس کا دشمن سے سامنا ہو تو اس کے ساتھی پسپا ہو جائیں، لیکن وہ سینے کو لے کر آگے بڑھے یہاں تک کہ شہید ہو جائے یا اس کو فتح نصیب ہو جائے۔