کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ لوگوں کو جنگ کے لیے حوصلہ دے اور جب ان میں سستی آئے تو انہیں جرأت دے
حدیث نمبر: 4770
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ قَيْسٍ ، قَالَ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ : أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ قَالَ الْبَرَاءُ : لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ إِنَّ هَوَازِنَ كَانُوا قَوْمًا رُمَاةً ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ ، وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا النَّبِيُّ لا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ .
ابواسحاق بیان کرتے ہیں: قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ لوگ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرار نہیں ہوئے۔ ہوازن قبیلے کے لوگ اچھے تیر انداز تھے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید خچر پر سوار دیکھا۔ سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اس خچر کی لگام کو پکڑا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4770
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (390): ق. *قال الناشر: وقعت زيادة مكرَّرة - هنا - في «الأصل» لا أصل لها في هذا الموضع! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4750»