کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ جب اس پر مشکل آ جائے تو اپنے حامیوں کو دعا کرے اور پکارے
حدیث نمبر: 4769
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةُ آلافٍ ، وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ ، قَالَ : فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ، فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ ، فَالْتَفَتَ إِلَى يَسَارِهِ ، وَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ ، قَالَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ فَنَزَلَ ، وَقَالَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ ، فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ كَثِيرَةً ، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ ، وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : إِذَا كَانَ فِي الشِّدَّةِ فَنَحْنُ ، وَيُعْطِي الْغَنِيمَةَ غَيْرَنَا ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ ، وَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي ؟ فَسَكَتُوا ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَى بُيُوتِكُمْ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَضِينَا ، قَالَ : لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لأَخَذْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب غزوہ حنین کا موقع آیا تو ہوازن قبیلے کے لوگ اور غطفان قبیلے کے لوگ اپنے بال بچوں اور ساز و سامان کو لے کر آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دس ہزار افراد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا تھا۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا رہ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ بلند آواز میں پکارا ان کے درمیان اور کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں طرف رخ کیا اور فرمایا: اے انصار کے گروہ! تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم حاضر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش رہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں طرف توجہ کی اور فرمایا: اے انصار کے گروہ! تو ان لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم حاضر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے فکر رہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے اترے اور فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، تو مشرکین پسپا ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال مہاجرین اور نئے مسلمان ہونے والے افراد کے درمیان تقسیم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو کچھ نہیں دیا۔ اس پر انصار نے کہا: جب مشکل آئی تھی اس وقت ہمیں بلایا گیا اور مال غنیمت آپ نے دوسروں کو دے دیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک اس بات کی اطلاع پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک خیمے میں جمع کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا بات ہے، جو مجھ تک پہنچی ہے۔ وہ لوگ خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکریاں لے جائیں اور تم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے جاؤ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم راضی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور اگر انصار ایک گھاٹی میں جائیں، تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4769
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1768). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4749»