کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - مسلمانوں کے لیے صحابہ و تابعین کے ساتھ فتح حاصل کرنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 4768
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ : مَنْ صَحِبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا، جس میں کچھ لوگ جنگ میں حصہ لیں گے تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہو تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں! تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی پھر لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب وہ جنگ کے لیے جائیں گے تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو تو جواب دیا جائے گا جی ہاں، تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی، پھر لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا، جس میں بہت سارے لوگ جنگ کے لیے جائیں گے تو دریافت کیا جائے گا: تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے شاگردوں کے ساتھ رہا ہو، تو جواب دیا: جائے گا جی ہاں، تو انہیں بھی فتح نصیب کی جائے گی۔