کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ سے نصرت طلب کرے جب وہ اللہ کے دشمنوں سے لڑ رہا ہو۔
حدیث نمبر: 4766
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : " شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ وَعَلَيْهَا خَمْسَةُ أُمَرَاءَ ، أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَعِيَاضٌ ، وَلَيْسَ عِيَاضٌ صَاحِبَ الْحَدِيثِ الَّذِي يُحَدِّثُ سِمَاكٌ عَنْهُ ، قَالَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ : إِذَا كَانَ قِتَالٌ فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ ، قَالَ : فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ أَنْ قَدْ جَاشَ إِلَيْنَا الْمَوْتُ وَاسْتَمْدَدْنَاهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْنَا أَنَّهُ قَدْ جَاءَنِي كِتَابُكُمْ تَسْتَمِدُّونِي ، وَإِنِّي أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا هُوَ أَعَزُّ نَصْرًا وَأَحْصَنُ جُنْدًا اللَّهُ فَاسْتَنْصِرُوهُ ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نُصِرَ بِأَقَلَّ مِنْ عَدَدِكُمْ ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كِتَابِي فَقَاتِلُوهُمْ وَلا تُرَاجِعُونِي ، قَالَ : فَقَاتَلْنَاهُمْ فَهَزَمْنَاهُمْ ، وَقَتَلْنَاهُمْ أَرْبَعَ فَرَاسِخَ ، وَأَصَبْنَا أَمْوَالا ، فَتَشَاوَرُوا فَأَشَارَ عَلَيْهِمْ عِيَاضٌ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ عَشْرَةٌ ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَنْ يُرَاهِنُنِي ؟ ، فَقَالَ شَابٌّ : أَنَا ، إِنْ لَمْ تَغْضَبْ ، قَالَ : فَسَبَقَهُ ، فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرَبِيٍّ " .
عیاض اشعری بیان کرتے ہیں: میں جنگ یرموک میں شریک ہوا ہوں۔ اس میں پانچ امیر تھے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ یہ وہ والے عیاض نہیں ہیں جو اس روایت کو بیان کر رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب لڑائی شروع ہو تو ابوعبیدہ تمہارے امیر ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر لیا ہے ہم نے ان کی مدد مانگی تو انہوں نے ہمیں جوابی خط لکھا کہ تمہارا خط میرے پاس آیا ہے، جس میں تم نے مدد مانگی ہے۔ میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف کرتا ہوں جو مدد کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ جو لشکر کے لیے زیادہ حفاظت کا باعث ہے وہ اللہ کی ذات ہے تم اس سے مدد مانگو کیونکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی تھی اور تم سے کم تعداد کے ہمراہ کی گئی جب تمہارے پاس میرا مکتوب آئے تو تم ان کے ساتھ لڑائی کرو اور تم دوبارہ مجھے نہ کہنا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے کفار کے ساتھ جنگ کی اور ہم نے انہیں پسپا کر دیا۔ چار فرسخ تک ہم انہیں قتل کرتے رہے ہمیں بہت سے اموال بھی ملے۔ ان لوگوں نے مشورہ کیا تو سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ہر آدمی کی طرف سے دس ہوں۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کون شخص میری مدد کرے گا؟ ایک نوجوان نے کہا: میں اگر آپ غصہ نہ کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو وہ ان سے آگے نکل گئے تو میں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے کندھوں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا وہ ایک عربی گھوڑے پر اس کے پیچھے تھے۔