کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - جب مشرک بہت شدّت سے مسلمانوں پر حملہ کریں تو امام کے لیے ان پر دعا و استغاثہ کرنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 4764
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ قَاصًّا يَقُصُّ عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ ، وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ ، فَجَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا اللَّهَ ، فَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا ، فَلْيَقُلْ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لأَحَدِكُمْ ، أَنْ يَقُولَ لِمَا لا يَعْلَمُ ، اللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا ، قَالَ : " اللَّهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوسُفَ " ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى أَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْجُلُودَ ، وَيَنْظُرُ أَحَدُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا مِنْ جُوعٍ ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِين سورة الدخان آية 10 ٍ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16 ، فَالْبَطْشَةُ يَوْمُ بَدْرٍ ، وَقَدْ مَضَى آيَةُ الدُّخَانِ ، وَالْبَطْشَةِ وَاللِّزَامِ وَالرُّومِ .
مسروق بیان کرتے ہیں۔ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ وہ ہمارے درمیان لیٹے ہوئے تھے ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: کندہ کے دروازوں کے پاس ایک واعظ تقریر کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا کہ دھوئیں کی نشانی (جس کا ذکر قرآن میں ہوا ہے) وہ عنقریب آئے گی اور کفار کی سانسوں کو اپنی گرفت میں لے گی، اور اہل ایمان کو اس کے ذریعے زکام جیسی کیفیت محسوس ہو گی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے فرمایا: اے لوگو اللہ سے ڈرو تم میں سے جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس کے مطابق بات بیان کر دے جسے علم نہ ہو تو وہ یہ کہہ دے اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کیونکہ تم میں سے زیادہ بڑا عالم وہ شخص ہے جو اس چیز کے بارے میں، جس کا اسے علم نہیں ہے یہ کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے یہ فرمایا تھا ” تم یہ فرما دو! میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔ “ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کا (اسلام قبول کرنے سے) پیٹھ پھیرنا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ ” اے اللہ! ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی مقرر کر دے “ تو ان لوگوں کو قحط سالی نے اپنی گرفت میں لے لیا یہاں تک کہ وہ مردار اور کھالیں کھانے لگے۔ ان میں سے کوئی ایک شخص آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے دھواں نظر آتا تھا۔ ابوسفیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا حکم دینے کے لیے تشریف لائے ہیں۔ صلہ رحمی کرنے کے لیے تشریف لائے ہیں۔ جب کہ آپ کی قوم کے افراد بھوک کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” اس دن کا انتظار کرو جب آسمان واضح دھواں لے آئے گا۔ “ (ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” جس دن ہم سخت پکڑ کریں گے بے شک ہم انتقام لینے والے ہیں۔ “ تو یہاں پکڑ سے مراد غزوہ بدر کا موقع ہے جبکہ دھوئیں پکڑ الزام اور اہل روم سے متعلق نشانیاں پہلے گزر چکی ہیں۔