کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اگر امام کسی بلدِ حرب پر مواقعت کا ارادہ کرے تو مستحب ہے کہ وہ اپنی کتب اور کتائب کو بھرپور تیار کرے۔
حدیث نمبر: 4760
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : " وَفَدَتْ وفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ فِي رَمَضَانَ أَنَا فِيهِمْ وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، وَكَانَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لِبَعْضٍ الطَّعَامَ ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا عَلَى رَحْلِهِ ، فَقُلْتُ : لَوْ صَنَعْتُ طَعَامًا ، ثُمَّ دَعَوْتُهُمْ إِلَى رَحْلِي ، فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ ، فَصُنِعَ ، ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِيِّ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ : سَبَقْتَنِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُمْ إِلَى رَحْلِي ، إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَلا أُحَامِلُكُمْ أَوْ أُحَادِثُكُمْ ، إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ حَتَّى يُدْرِكَ الطَّعَامُ ، فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ ، فَقَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ ، فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى أَحَدِ الْجَنَبَتَيْنِ ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْيُسْرَى ، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ ، فَأَخَذُوا الْوَادِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَتِهِ ، وَقَدْ بَعَثَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا لَهَا ، فَقَالُوا : نُقَدِّمُ هَؤُلاءِ ، وَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ ، كُنَّا مَعَهُمْ ، وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا مَا سَأَلُوا ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي ، فَقَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، اهْتِفْ بِالأَنْصَارِ ، فَلا يَأْتِينِي إِلا أَنْصَارِيٌّ " ، فَهَتَفَ بِهِمْ ، فَجَاءُوا ، فَأَحَاطُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ ، وَأَتْبَاعِهِمْ ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى مِمَّا يَلِي الْخِنْصَرَ وَسَطَ الْيُسْرَى ، وَقَالَ : احْصُدُوهُمْ حَصْدًا حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَمَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ إِلا قَتَلَهُ ، وَمَا يُوَجِّهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَيْنَا شَيْئًا ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ ، لا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، فَأَغْلَقُوا أَبْوَابَهُمْ ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَفِي يَدِهِ قَوْسٌ ، وَهُوَ آخِذٌ الْقَوْسَ ، وَكَانَ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ صَنَمٌ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْعَنُ فِي جَنْبِهِ بِالْقَوْسِ ، وَيَقُولُ : جَاءَ الْحَقُّ ، وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ، فَلَمَّا قَضَى طَوَافَهُ أَتَى الصَّفَا ، فَعَلا حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ ، فَجَعَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَهُ ، وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرُهُ وَالأَنْصَارُ تَحْتَهُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ لِبَعْضٍ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ ، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَكَانَ لا يَخْفَى عَلَيْنَا إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ ، لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَلْ يَطْرِقُ حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ ، فَلَمَّا قُضِيَ الْوَحْيُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، قُلْتُمْ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ ، قَالُوا : قَدْ قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَلا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمُ الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ، فأَقْبَلُوا يَبْكُونَ وَيَقُولُونَ : وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلا ضَنًّا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ ، قَالَ : وَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ ، أَنَّ فَتْحَ مَكَّةَ كَانَ عَنْوَةً لا صُلْحًا " .
عبد اللہ بن رباح بیان کرتے ہیں: رمضان کے مہینے میں کچھ وفود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جن میں، میں اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ ہم لوگ ایک دوسرے کے لیے کھانا تیار کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر اپنی رہائشی جگہ پر ہمیں بلایا کرتے تھے میں نے کہا: اگر میں بھی کھانا تیار کروں اور پھر ان لوگوں کو اپنی رہائشی جگہ پر بلاؤں تو (یہ مناسب ہو گا) میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا۔ کھانا تیار ہو گیا۔ شام کے وقت میری ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے کہا: اے ابوہریرہ! آج رات دعوت میری طرف ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھ سے سبقت لے گئے ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے ان لوگوں کو بھی اپنی رہائشی جگہ پر بلا لیا پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو وہ حدیث نہ سناؤں۔ میں تم لوگوں کو ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو اے انصار کے گروہ تمہاری حدیث ہے اتنی دیر میں کھانا بھی آ جائے گا پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ ذکر کیا، انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے ایک طرف سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور بائیں طرف سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا ایک دستے کا امیر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ وہ لوگ نشیبی علاقے میں پہنچ گئے جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھوٹے دستے میں تھے۔ قریش نے اپنے اوباشوں اور پیروکار لڑکوں کو اس دستے کی طرف بھیجا انہوں نے کہا: ہم ان لوگوں کو موقعہ دیتے ہیں اگر یہ جیت گئے تو ہم ان کے ساتھ ہوں گے اور اگر یہ مارے گئے تو جو وہ مانگیں گے ہم دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر دوڑا کر مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوہریرہ انصار کو بلا کر لاؤ میرے پاس صرف انصار آئیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا اور وہ لوگ آ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے قریش کے اوباشوں اور پیروکار لڑکوں کو دیکھا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں دست مبارک کو بائیں پر مارا اور فرمایا: تم انہیں کاٹ کے رکھ دینا یہاں تک کہ تم لوگ مجھے صفا پر آ کر ملنا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کرتے ہیں: ہم لوگ روانہ ہوئے اور ہم میں سے جس شخص نے ان میں سے جس شخص کو قتل کرنا چاہا اسے قتل کر دیا یہاں تک کہ پھر ان میں سے کوئی ہمارے سامنے نہیں آیا۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! قریش کے قتل کو مباح قرار دیا گیا ہے آج کے بعد قریش باقی نہیں رہیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے دروازے کو بند کر لے وہ محفوظ ہو گا، جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ امن میں ہو گا تو لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک کمان تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کمان کو پکڑا ہوا تھا۔ خانہ کعبہ کے ایک پہلو میں ایک بت تھا جس کی وہ لوگ عبادت کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمان کے ذریعے اس کے پہلو میں مارا اور یہ پڑھا ” حق آ گیا باطل رخصت ہو گیا۔ “ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف مکمل کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھ گئے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر بیت اللہ پر پڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور جو اللہ کو منظور تھا وہ ذکر کیا۔ انصار صفا کے نیچے موجود تھے ان میں سے کسی ایک نے کسی دوسرے سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بستی سے محبت اور اپنے خاندان سے محبت لاحق ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو یہ چیز ہم پر مخفی نہیں رہتی تھی۔ اس وقت کوئی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ نہیں سکتا تھا۔ وہ انتظار کرتا تھا یہاں تک کہ وحی مکمل ہو جاتی کی تھی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول مکمل ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے انصار کے گروہ تم لوگوں نے یہ بات کہی ہے ان صاحب کو اپنی بستی کی محبت اور خاندان کی محبت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے یہ بات کہی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے میری زندگی تمہارے ساتھ ہے اور میری موت تمہارے ساتھ ہے تو انصار نے رونا شروع کر دیا اور کہنا شروع کر دیا اللہ کی قسم! ہم نے صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے یہ بات کہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے مکہ جنگ کے نتیجے میں فتح ہوا تھا صلح کے نتیجے میں فتح نہیں ہوا تھا۔