کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - یہ اطلاع کہ بعض علامات اسلام لانے پر محارب کا قتل جائز نہیں قرار دیا گیا۔
حدیث نمبر: 4752
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غَنَمٌ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ ، فَعَدَوْا عَلَيْهِ ، فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ ، فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا سورة النساء آية 94 " ، إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کے پاس سے گزرا اس شخص کے ساتھ بکریاں بھی تھیں۔ اس شخص نے ان لوگوں کو سلام کیا تو ان لوگوں نے کہا: اس نے تم لوگوں کو سلام صرف اس لیے کیا تاکہ تم سے بچ جائے۔ ان لوگوں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریاں حاصل کر لیں، پھر وہ لوگ ان بکریوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو پہلے اس بات کی تحقیق کر لو۔ “ یہ آیت آخر تک ہے۔