کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اس بات پر منع کہ جب محارب مسلمان لا الہ الا اللہ کہہ دے تلوار کے خوف پر تو اسے قتل کرنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 4751
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو ظَبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ، قَالَ : وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلا مِنْهُمْ ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيُّ ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَقَتَلْتُهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أُسَامَةُ قَتَلْتُهُ ، بَعْدَمَا قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا قَالَ مُتَعَوِّذًا ، فَقَالَ : طَعَنْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ؟ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ " .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ قبیلے کی شاخ حرقہ کی طرف بھیجا ہم نے صبح کے وقت ان لوگوں پر حملہ کیا اور انہیں پسپا کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں اور ایک انصاری ان لوگوں کے ایک شخص کے سامنے آئے۔ جب ہم اس پر غالب آنے لگے اس نے کہا: لا الہ الا اللہ تو انصاری نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ جب ہم لوگ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع مل چکی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے اسامہ کیا تم نے اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بعد اسے قتل کر دیا تھا۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس نے جان بچانے کے لیے یہ پڑھا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ تم نے اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بعد اسے نیزہ مارا تھا؟ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات مسلسل دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کاش میں نے آج سے پہلے اسلام ہی نہ قبول کیا ہوتا۔