کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اگر دشمنوں میں سے کسی نے کلمہ اسلام جیسا لفظ کہا ہو خواہ ان کی زبان اہلِ اسلام جیسی نہ ہو تو امام کے لیے اس کی وجہ کا لحاظ کرنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 4749
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى جَذِيمَةَ ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الإِسْلامِ ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا : أَسْلَمْنَا ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ : صَبَأْنَا صَبَأْنَا ، وَجَعَلَ خَالِدٌ يَأْخُذَهُمْ أَسْرًا وَقَتْلا ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا حَتَّى كَانَ يَوْمًا ، قَالَ خَالِدٌ : لِيَقْتُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ أَسِيرَهُ ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ لَهُ صَنِيعُ خَالِدٍ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ " .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جزیمہ کی طرف بھیجا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، لیکن ان لوگوں نے واضح طور پر یہ نہیں کہا: کہ ہم نے اسلام قبول کیا وہ لوگ یہی کہتے رہے ہم نے دین تبدیل کر لیا ہم نے دین تبدیل کر لیا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان کے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو قتل کر دیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے ہر ایک کے سپرد ایک قیدی کیا، یہاں تک کہ ایک دن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے طرزعمل کا ذکر کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور ارشاد فرمایا: ” اے اللہ! خالد نے جو کچھ کیا ہے میں اس کے حوالے سے تیری بارگاہ میں برات کا اظہار کرتا ہوں۔ “