کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ جب سرِیّہ نکلے تو اسے وہ خصال بتا دے جن کی اسے حاجت ہو
حدیث نمبر: 4739
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَأَمْلاهُ عَلَيْنَا إِمْلاءً ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ، ثُمَّ قَالَ : " اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، وَلا تَغُلُّوا ، وَلا تَغْدِرُوا ، وَلا تُمَثِّلُوا ، وَلا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلالٍ ، فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ ، وَكُفَّ عَنْهُمُ ، ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلامِ ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ إِلَى ذَلِكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ ، وَكُفَّ عَنْهُمْ ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُهَاجِرِينَ ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ إِلَى ذَلِكَ ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا ، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَاتِلْهُمْ ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ ، فَلا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلا ذِمَّةَ رَسُولِهِ ، وَاجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ آبَائِكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ ، فَلا تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ ، فَإِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ أَتُصِيبُونَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لا ؟ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا مہم کے امیر کو روانہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بطور خاص اس کی اپنی ذات کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنے کی تلقین کیا کرتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے اللہ کے نام سے مدد حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کرو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا تاہم تم خیانت نہ کرو، وعدہ خلافی نہ کرو لاشوں کی بے حرمتی نہ کرو نابالغ بچے کو قتل نہ کرو۔ جب تمہارا مشرکین سے تعلق رکھنے والے دشمن سے سامنا ہو تو انہیں تین میں سے کسی ایک چیز کو قبول کرنے کی دعوت دو۔ ان میں سے وہ جس چیز کو اختیار کرنا چاہیں ان کی طرف سے اسے قبول کر لو اور ان پر حملہ نہ کرو تم لوگ انہیں پہلے اسلام کی دعوت دو اگر وہ تمہاری بات مان لیں، تو اسے ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان سے جنگ سے رک جاؤ یا پھر انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقے کی طرف آ جائیں اگر وہ منتقل ہونے سے انکار کریں تو تم انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کر لیتے ہیں، تو ان کی مثال دیہاتی مہاجرین کی طرح ہو گی اور ان پر بھی وہ تمام احکامات لاگو ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے مہاجرین پر لاگو کیے ہیں اگر وہ تمہاری اس بات کو قبول کر لیتے ہیں، تو تم ان کی طرف سے اس بات کو قبول کرو اور اگر وہ انکار کرتے ہیں، تو ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرو اور پھر ان کے ساتھ جنگ شروع کر دو تم لوگ جب کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور وہ لوگ یہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کی پناہ اور اس کے رسول کی پناہ دو تو تم انہیں اللہ اور اس کے رسول کی پناہ نہ دو بلکہ تم انہیں اپنی پناہ دو اپنے باپ داد کی اور اپنے ساتھ ساتھیوں کی پناہ دو کیونکہ اگر تم اپنی دی ہوئی پناہ کی یا اپنے باپ دادا پناہ کی خلاف ورزی کرتے ہو تو یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہو گا کہ تم اللہ کے نام اور اس کے رسول کے نام کی پناہ کی خلاف ورزی کرو اور جب تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کیا ہوا ہو اور وہ لوگ یہ چاہیں کہ تم ان کے ساتھ اللہ کے حکم کے مطابق صلح کر لو تو تم اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے کو طے نہ کرو کیونکہ تم لوگ یہ نہیں جانتے کہ تم نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ٹھیک عمل کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان کو سنائی تو انہوں نے فرمایا مسلم نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند حدیث مجھے بیان کی ہے۔