کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ جو لشکر کَمِین کے لیے مقرر کرے اُنہیں وہ ضروری علم و ہدایات بتا دے
حدیث نمبر: 4738
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ أَوْ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَقِينَا الْمُشْرِكِينَ ، أَجْلِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا مِنَ الرُّمَاةِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ ، وَقَالَ : لا تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانَكُمْ ، إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ ، وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا ، فَلا تُعِينُونَا ، فَلَمَّا لَقِينَا الْقَوْمَ وَهَزَمَهُمُ الْمُسْلِمُونَ ، حَتَّى رَأَيْتَ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ فِي الْجَبَلِ ، قَدْ رَفَعْنَ عَنْ سُوقِهِنَّ ، قَدْ بَدَتْ خَلاخِيلُهُنَّ ، فَأَخَذُوا يَنْقَلِبُونَ ، وَيَقُولُونَ : الْغَنِيمَةَ ، الْغَنِيمَةَ ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ : مَهْلا ، أَمَا عَلِمْتُمْ مَا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقُوا ، فَلَمَّا أَتَوْهُمْ صَرَفَ اللَّهُ وجُوهَهُمْ ، فَأُصِيبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تِسْعُونَ قَتِيلا ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَشْرَفَ عَلَيْنَا وَهُوَ عَلَى نَشَزٍ ، فَقَالَ : أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجِيبُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةُ ؟ ثَلاثًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجِيبُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَفِي الْقَوْمِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجِيبُوهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَمَّا هَؤُلاءِ فَقَدْ قُتِلُوا ، لَوْ كَانُوا أَحْيَاءَ لأَجَابُوا ، فَلَمْ يَمْلِكْ عُمَرُ نَفْسَهُ ، أَنْ قَالَ : كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، قَدْ أَبْقَى اللَّهُ لَكَ مَا نُخْزِيكَ ، فَقَالَ : اعْلُ هُبَلُ ، اعْلُ هُبَلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجِيبُوهُ ، فَقَالُوا : مَا نَقُولُ ؟ قَالَ : قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى ، وَأَجَلُّ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَلا لَنَا الْعُزَّى وَلا عُزَّى لَكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجِيبُوهُ ، قَالُوا : مَا نَقُولُ ؟ قَالَ : قُولُوا اللَّهُ مَوْلانَا وَلا مَوْلَى لَكُمْ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ ، أَمَا إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَكَذَا حُدِّثْنَا تَسْعَوْنَ قَتِيلا ، وَإِنَّمَا هُوَ سَبْعُونَ قَتِيلا قَتِيلا .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) غزوہ احد کے موقع پر ہمارا مشرکین سے سامنا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو مقرر کیا اور سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں۔ اگرچہ تم ہمیں دیکھو گے کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں۔ اگرچہ تم انہیں دیکھو گے کہ وہ ہم پر غالب آ گئے ہیں تو تم ہماری مدد نہ کرنا (یعنی آگے بڑھ کر ہماری مدد نہ کرنا اپنی جگہ پر رہنا)۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا اور مسلمانوں نے انہیں پسپا کر دیا تو میں نے (کفارہ) خواتین کو دیکھا کہ وہ پہاڑ پر بھاگ رہی ہیں انہوں نے اپنے پائنچے اوپر چڑھائے ہوئے ہیں اور ان کی پازیبیں نظر آ رہی ہیں، تو وہ لوگ بھی آگے آ گئے اور بولے: غنیمت حاصل کرو غنیمت حاصل کرو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ٹھہر جاؤ کیا تمہیں یاد نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا تلقین کی تھی، لیکن وہ لوگ چلے گئے جب وہ لوگ وہاں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے صورتحال تبدیل کر دی اور مسلمانوں میں سے 90 لوگ شہید ہو گئے۔ پھر ابوسفیان نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر ہماری طرف منہ کر کے دریافت کیا: کیا لوگوں میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم (زندہ ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اسے کوئی جواب نہ دینا، پھر اس نے دریافت کیا: کیا یہاں ابوقحافہ کے صاحبزادے (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں) اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے اسے جواب نہیں دینا پھر اس نے دریافت کیا: کیا لوگوں میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زندہ ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے جواب نہ دینا۔ ابوسفیان اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: یہ لوگ تو مارے گئے ہیں، کیونکہ اگر یہ زندہ ہوتے تو جواب دیتے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ق ابونہ رہا انہوں نے یہ کہا: یہ کہا: اے اللہ کے دشمن تم نے غلط کہا: ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس چیز کو باقی رکھا ہے جو تم کو رسوا کر دے گی۔ ابوسفیان نے کہا: اے ہبل تو سر بلند ہو اے ہبل تو سر بلند ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے جواب دو۔ لوگوں نے دریافت کیا: ہم کیا کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ابوسفیان نے کہا: خبردار ہمارے ساتھ عزا ہے تمہارے پاس عزا نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے جواب دو لوگوں نے دریافت کیا: ہم کیا جواب دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے۔ ابوسفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور جنگ کے دوران صورتحال تبدیل ہوتی رہتی ہے تمہیں لوگوں میں سے کچھ کی لاشوں کی بے حرمتی ملے گی۔ میں نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن یہ بات مجھے بری بھی نہیں لگی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اسی طرح منقول ہے 90 لوگ شہید ہوئے تھے حالانکہ 70 لوگ شہید ہوئے تھے۔