کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اس معذور قاعد کا فضل کہ اللہ تعالیٰ اسے مجاہد مجتہد کے اجر سے نوازتا ہے
حدیث نمبر: 4731
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ ، وَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ ، وَلا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ ، إِلا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم نے جو بھی سفر کیا جس بھی وادی سے گزرے وہ لوگ وہاں تمہارے ساتھ تھے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا وہ لوگ مدینہ میں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں یہ وہ لوگ ہیں جو عذر کی وجہ سے (جہاد میں) شریک نہیں ہو سکے۔ “