کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اگر کوئی غزوے کے لیے تیار ہو اور کوئی عِلّہ پیش آ جائے تو جو اس نے اپنے لیے تیار رکھا تھا اپنے مسلمان بھائی کو دے دینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 4730
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ وَلَيْسَ لِي مَا أَتَجَهَّزُ بِهِ ، قَالَ : " اذْهَبْ إِلَى فُلانٍ الأَنْصَارِيِّ ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ " ، فَقُلْ لَهُ : يُقْرِئُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلامَ ، وَيَقُولُ لَكَ : ادْفَعْ إِلَيَّ مَا تَجَهَّزْتَ بِهِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ : لا تُخْفِي مِنْهُ شَيْئًا ، فَوَاللَّهِ لا تُخْفِينَ مِنْهُ شَيْئًا ، فَيُبَارَكَ لَكِ مِنْهُ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس اس کا ساز و سامان نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں انصاری کے پاس چلے جاؤ اس کے پاس ساز و سامان ہے تم اس سے کہنا کہ اللہ کے رسول تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم اپنا ساز و سامان مجھے دے دو۔ وہ شخص اس انصاری کے پاس آیا تو اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: کہ تم اس سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہ رکھنا۔ اللہ کی قسم! تم نے اس سے جو بھی چیز چھپانے کی کوشش کی تو اس میں تمہیں برکت نصیب نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4730
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2484). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4710»