کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ مسلمانوں سے مشورہ کرے اور دشمن سے ملنے پر ان کی آراء کو مضبوط کرے
حدیث نمبر: 4721
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَارَ إِلَى بَدْرٍ ، فَجَعَلَ يَسْتَشِيرُ النَّاسَ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَجَعَلَ يَسْتَشِيرُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : وَاللَّهِ مَا يُرِيدُ غَيْرَنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : أَرَاكَ تَسْتَشِيرُ ، فَيُشِيرُونَ عَلَيْكَ ، وَلا نَقُولُ كَمَا قَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ : اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا سورة المائدة آية 24 ، وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ ، كُنَّا مَعَكَ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر روانہ ہونے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے مشورہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنی رائے بیان کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے پیش کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مشورہ لیتے رہے یہاں تک کہ انصار نے کہا: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں تو ایک انصاری صاحب نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ مشورہ لے رہے ہیں لوگ آپ کو مشورہ دے رہے ہیں ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے کہا: تھا: تم اور تمہارا پروردگار جا کر جنگ میں حصہ لو۔ “ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ لڑتے ہوئے ” برک غماد “ تک چلے جائیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں گے۔