کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ وہ بعض رعایا سے جنگ کے لیے اسلحہ استعارہ لے
حدیث نمبر: 4720
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ أَوِ ادْفَعْ إِلَيْهِمْ ثَلاثِينَ بَعِيرًا ، أَوْ ثَلاثِينَ دِرْعًا ، قَالَ : قُلْتُ : الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
صفوان بن یعلی بن امیہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب میرا پیغام رساں تمہارے تک آئے تو تم اسے تیسں اونٹ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تیسں زرہیں ادا کر دینا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے حوالے کر دینا تو میں نے دریافت کیا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ عارضی طور پر ہیں، جنہیں ادا کر دیا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔