کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ وہ لوگوں کو کسی معین وقت پر غزوے کے لیے راغب کرے
حدیث نمبر: 4719
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ فِي كِتَابِ الْمَشَايخِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَادَى فِينَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الأَحْزَابِ : أَلا لا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ ، فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ ، وَقَالَ الآخَرُونَ : لا نُصَلِّي إِلا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ ، قَالَ : فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب کے موقع پر جب ہم لوگ واپس آ رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا۔ خبردار کوئی بھی شخص بنو قریظہ کے (علاقے تک پہنچنے سے) پہلے ظہر کی نماز ہرگز ادا نہ کرے۔ کچھ لوگوں کو نماز کا وقت رخصت ہو جانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ تک پہنچنے سے پہلے ہی نماز ادا کر لی۔ جب کہ کچھ لوگوں نے کہا: ہم اس وقت تک نماز ادا نہیں کریں گے جب تک اس چیز پر عمل نہیں کرتے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے۔ اگرچہ نماز کا وقت رخصت ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں میں سے کسی کو بھی غلط قرار نہیں دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4719
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4699»