کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فرضِ جہاد کا بیان - ان معذورین کو جو خروج سے قعود پر مجبور ہوں اللہ تعالیٰ نے جو رخصت عطا فرمائی اس کا ذکر
حدیث نمبر: 4712
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ خَالِي الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ دَامَ بَصَرُهُ مَفْتُوحَةٌ عَيْنَاهُ وَفَرَغَ سَمْعُهُ وَقَلْبُهُ لِمَا يَأْتِيهِ مِنَ اللَّهِ ، قَالَ : فَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ ، فَقَالَ لِلْكَاتِبِ : " اكْتُبْ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، فَقَامَ الأَعْمَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا ذَنْبُنَا ؟ فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا لِلأَعْمَى : إِنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَافَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِهِ فَبَقِيَ قَائِمًا ، وَيَقُولُ : أَعُوذُ بِغَضَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْكَاتِبِ : اكْتُبْ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 " .
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے ان کے ماموں سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کرنا شروع کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سماعت متوجہ رہتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن بھی اس چیز کی طرف متوجہ رہتا تھا۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہیں آپ کی اس صورت حال کا اندازہ ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی کتابت کرنے والے سے فرمایا: تم یہ نوٹ کرو۔ ” اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے (یعنی جہاد میں شریک نہ ہونے والے) لوگ برابر نہیں ہیں۔ “ ” اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ “ تو ایک نابینا صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا کیا قصور ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پھر وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو ہم نے اس نابینا سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی ہے تو اس نابینا کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے معاملے سے متعلق کوئی چیز نازل نہ ہو جائے تو وہ کھڑا رہا اور یہ کہہ رہا تھا میں اللہ کے رسول کی ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب سے فرمایا: تم یہ بھی لکھو ” وہ لوگ جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو۔ “