کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فرضِ جہاد کا بیان - مسلمانوں کے لیے مشرکین سے نبرد آزما ہونا جائز ہے کیونکہ یہ دونوں جہادوں میں سے ایک ہے۔
حدیث نمبر: 4707
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَرَى فِي الشِّعْرِ ؟ قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ ، وَلِسَانِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا تَنْضَحُونَهُمْ بِالنَّبْلِ " .
عبدالرحمن بن كعب بن مالک اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! شعر کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ہمراہ جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے (مشرکین کے خلاف شعر کہہ کر) گویا کہ تم انہیں نیزے مارتے ہو۔