کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رمی کا بیان - تیر اندازی کا حکم اور اس کی تعلیم کیونکہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی سنت ہے
حدیث نمبر: 4693
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُونَ بِالسُّوقِ ، فَقَالَ : " ارْمُوا بَنِي إِِسْمَاعِيلَ ، فَإِِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا . وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلانٍ " لأَحَدِ الْفَرِقَيْنِ ، فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ ، فَقَالَ : " مَا لَكُمُ ارْمُوا " . قَالُوا : كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلانٍ ؟ قَالَ : " ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلُّكُمْ " .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس تشریف لائے جو بازار میں تیراندازی کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اسماعیل کی اولاد تم لوگ تیراندازی کرو کیونکہ تمہارے جدامجد بھی تیرانداز تھے اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں فریقوں میں سے کسی ایک فریق کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی تو ان لوگوں نے نے اپنے ہاتھ روک لیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ہوا تم لوگ تیراندازی کرو۔ لوگوں نے عرض کی: ہم کیسے تیراندازی کر سکتے ہیں، جبکہ آپ بنو فلاں کے ساتھ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ تیراندازی کرو میں تم سب لوگوں کے ساتھ ہوں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4693
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1439): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4674»