کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: گھوڑوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ کی راہ میں گھوڑوں کے لیے دعا کیا کہی جاتی ہے
حدیث نمبر: 4681
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ ، فَجَهَدَ الظَّهْرُ جَهْدًا شَدِيدًا " فَشَكَوْا إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِظَهْرِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ ، فَتَحَيَّنَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضِيقًا سَارَ النَّاسُ فِيهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مُرُّوا بِسْمِ اللَّهِ ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ بِظَهْرِهِمْ وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكِ ، فَإِِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ وَالرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فِي الْبِرِّ وَالْبَحْرِ " . قَالَ فَضَالَةُ : فَلَمَّا بَلَغَنَا الْمَدِينَةَ ، جَعَلَتْ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتُهَا ، فَقُلْتُ : هَذِهِ دَعْوَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ ، فَمَا بَالُ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ غَزَوْنَا غَزْوَةَ قُبْرُسَ ، وَرَأَيْتُ السُّفُنَ وَمَا تَدْخُلُ ، عَرَفْتُ دَعْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی تو سواریاں انتہائی لاغر ہو گئیں لوگوں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی کہ ان کی سواریاں لاغر ہو گئی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک تنگ راستے سے گزرنے کا حکم دیا لوگ وہاں سے گزرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے اللہ کا نام لیتے ہوئے گزر جاؤ۔ آپ ان کی سواریوں پر پھونک مارتے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! اپنی راہ میں اس پر سواری کو آسان کر دے کیونکہ تو ہی طاقتور اور کمزور تر اور خشک پر، خشکی اور سمندر میں سواری فراہم کرتا ہے۔ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو ہمارے لیے ان سواریوں پر ق ابوپانا مشکل ہو رہا تھا۔ (یعنی وہ تیزی سے چل رہی تھیں) تو میں نے یہ سوچا کہ طاقتور اور کمزور کے بارے میں یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں کی دعا کا یہ نتیجہ ہے لیکن خشک اور تر کے بارے میں کیا صورت ہو سکتی ہے؟ پھر جب ہم شام آئے اور ہم نے جنگ قبرص میں شرکت کی اور میں نے بڑی (جنگی کشتیاں) دیکھیں، تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا نتیجہ ہے۔