کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: گھوڑوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ گھوڑے پالنے والے کے لیے ان کے پیٹوں، لید اور پیشاب تک کو نیکیوں میں لکھ دیتا ہے
حدیث نمبر: 4672
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ ، وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ ، كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ، كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٌ لَهُ ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يَرُدْ أَنْ يَسْقِيَهُ ، كَانَ لَهُ ذَلِكَ حَسَنَاتٌ ، فَهِيَ لِذَلِكَ أَجْرٌ ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلا ظُهُورِهَا ، فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِِسْلامِ ، فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٍ " . وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ ، فَقَالَ : " مَا أَنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِِلا بِهَذِهِ الآيَةِ الْجَامِعَةِ الْفَاذَّةِ : فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 7 - 7 " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : النِّوَاءُ : الْكِبْرُ وَالْخُيَلاءُ فِي غَيْرِ ذَاتِ اللَّهِ ، وَالْكِبْرُ وَالْخُيَلاءُ فِي ذَاتِ اللَّهِ مَحْمُودَانِ ، إِِذْ هُمَا الْفَرَحُ بِالطَّاعَاتِ وَتَانِكَ الْفَرَحُ بِالدُّنْيَا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” گھوڑا ایک آدمی کیلئے اجر ہوتا ہے ایک آدمی کیلئے ستر ہوتا ہے اور ایک آدمی کیلئے گناہ ہوتا ہے جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے، جس کیلئے یہ اجر ہوتا ہے، تو یہ وہ شخص ہے جو گھوڑے کو اللہ کی راہ میں باندھتا ہے وہ اسے اپنی چراگاہ یا باغ میں چرنے کیلئے چھوڑ دیتا ہے تو اس چراگاہ یا باغ میں اس گھوڑے کی رسی جہاں تک جاتی ہے اس شخص کیلئے اس کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اگر وہ گھوڑا اپنی رسی تڑوا کر کسی ایک ٹیلے پر یا دو ٹیلوں پر چڑھ جائے تو اس کے قدموں کے نشان اس کے لید کرنے کو بھی اس شخص کیلئے نیکی کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر وہ گھوڑا کسی نہر کے پاس سے گزر کر اس میں سے پانی پی لے حالانکہ اس کے مالک نے اسے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو تو یہ بات بھی اس کے مالک کیلئے نیکیاں ملنے کا باعث بنتی ہے اور یہ چیز اس کیلئے اجر ہوتی ہے ایک وہ شخص ہے جو گھوڑا اس لئے باندھتا ہے تاکہ خوش حالی اختیار کرے اور لوگوں کی (مدد مانگنے سے) بچے وہ شخص اس گھوڑے کی گردن اور پشت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو فراموش نہیں کرتا تو یہ وہ گھوڑا ہے جو اس کے لیے ستر کا باعث ہوتا ہے ایک وہ شخص ہے، جو گھوڑے کو فخر اور ریاکاری کیلئے اور اہل اسلام کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرنے کیلئے باندھتا ہے تو یہ اس کیلئے گناہ ہوتے ہیں۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں دریافت کیا گیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں مجھ پر باقاعدہ کوئی چیز نازل نہیں ہوئی بس یہ جامع آیت ہے۔ ” جو شخص ذرے کے وزن جتنی اچھائی کرے گا وہ اس کا بدلہ دیکھ لے گا اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا وہ اس کا بدلہ دیکھ لے گا۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ نواء کا مطلب اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ تکبر کرنا اور بڑائی کا اظہار کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات (کی رضامندی میں) تکبر اور بڑائی قابل تعریف ہیں، کیونکہ یہ دونوں نیکیوں کے ساتھ خوش ہونے کے بارے میں ہوتے ہیں اور وہ دنیا کے ساتھ خوش ہونے کے حوالے سے ہوتا ہے۔