کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب شہادت کی فضیلت - اس بیان کا ذکر کہ اگر کافر مقتول بعد میں ایمان لے آئے تو وہ مسلمان قاتل کے ساتھ جنت میں جمع ہوگا
حدیث نمبر: 4666
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحِرَّانَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ رَجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَكِلاهُمَا فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتِبِنَا بِأَنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِِلَى الآمِرِ كَمَا تُضِيفُهُ إِِلَى الْفَاعِلِ ، وَكَذَلِكَ تُضِيفُ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ مِنْ حَرَكَاتِ الْمَخْلُوقِينَ إِِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلا ، كَمَا تُضِيفُ ذَلِكَ الشَّيْءَ إِِلَيْهِمْ سَوَاءً ، فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَحِكَ مِنْ رَجُلَيْنِ : يُرِيدُ ضَحَّكَ اللَّهُ مَلائِكَتَهُ وَعَجَّبَهُمْ مِنَ الْكَافِرِ الْقَاتِلِ الْمُسْلِمَ ، ثُمَّ تَسْدِيدَ اللَّهُ لِلْكَافِرِ وَهِدَايَتِهِ إِِيَّاهُ إِِلَى الإِِسْلامِ وَتَفَضُّلِهِ عَلَيْهِ بِالشَّهَادَةِ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَدْخُلا الْجَنَّةَ جَمِيعًا ، فَيُعَجِّبُ اللَّهُ مَلائِكَتَهُ وَيُضَحِّكُهُمْ مِنْ مَوْجُودِ مَا قَضَى وَقَدَّرَ ، فَنُسِبَ الضَّحِكُ الَّذِي كَانَ مِنَ الْمَلائِكَةِ إِِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَى سَبِيلِ الأَمْرِ وَالإِِرَادَةِ ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ سَنَذْكُرُهَا فِيمَا بَعْدُ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ فِي الْقَسَمِ الْخَامِسِ مِنْ أَقْسَامِ السُّنَنِ إِِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہوتا ہے اور وہ دونوں جنت میں ہوں گے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ اس نوعیت کی روایت ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض روایات کسی فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ فعل کی نسبت کام کرنے والے شخص کی طرف کرتے ہیں اسی طرح وہ بعض اوقات کسی چیز جو مخلوق کی حرکات سے تعلق رکھتی ہو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ اس کی نسبت مخلوق کی طرف کرتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے اس سے مراد یہ ہے: اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ہنسنے کیلئے کہتا ہے اور انہیں خوش ہونے کیلئے کہتا ہے اس کافر کے بارے میں جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کافر کو راہ راست پر ہدایت نصیب کرتا ہے وہ مسلمان ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اس کے بعد شہادت کا مرتبہ عطا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو اس بات پر حیران کرتا ہے اور انہیں اس بات پر ہنساتا ہے، جو اس چیز کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے جو اس نے فیصلہ دیا ہے اور مقدر میں لکھا ہے تو یہاں ہنسنا جو فرشتوں کی طرف سے ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے جو اس کے حکم دینے اور ارادہ کرنے کے حوالے سے ہے اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جنہیں ہم اس کتاب میں آگے چل کر سنن کی پانچویں قسم میں نقل کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور یہ چاہا۔