کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب شہادت کی فضیلت - اس بیان کا ذکر کہ جو شخص جنگ کے موقع پر صرف دیکھنے کے لیے آیا ہو اور مارا جائے تو اس کے لیے بھی جنت واجب ہے
حدیث نمبر: 4664
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : انْطَلَقَ حَارِثَةُ بْنُ عَمَّتِي نَظَّارًا يَوْمَ بَدْرٍ مَا انْطَلَقَ لِقِتَالٍ ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ ، فَقَتَلَهُ ، فَجَاءَتْ عَمَّتِي أُمُّهُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنِي حَارِثَةُ إِِنْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ ، وَإِِلا فَسَتَرَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَى " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری پھوپھو کے بیٹے حارثہ غزوہ بدر کے دن صورت حال دیکھنے کیلئے گئے کہ جنگ کی کیا صورت حال ہے؟ انہیں ایک تیر لگا اور وہ مر گئے میری پھوپھی اور ان کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرا بیٹا حارثہ اگر تو جنت میں ہے، تو میں صبر سے کام لیتی ہوں اور ثواب کی امید رکھتی ہوں ورنہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ام حارثہ! جنت کے کئی درجات ہیں اور حارثہ فردوس اعلیٰ میں ہے۔